حدیث نمبر: 6295
٦٢٩٥ - حدثنا عباد بن العوام عن هشام عن الحسن، قال: سئل عن الرجل (١) (يؤم) (٢) النسوة في رمضان قال: كان لا يرى به بأسًا إذا كان الرجل لا بأس به، قال: وإن كان الرجل ليخرج فتفوته الصلاة في جماعة فيرجع إلى أهله فيجمعهم فيصلي بهم.
مولانا محمد اویس سرور

حسن سے سوال کیا گیا کہ آدمی رمضان میں کیا صرف عورتوں کو نماز پڑھا سکتا ہے ؟ حسن نے فرمایا کہ اگر اس آدمی میں کوئی خرابی نہ ہو تو اس عمل میں کوئی خرابی نہیں۔ وہ فرماتے تھے کہ اگر کسی آدمی کی جماعت کی نماز چھوٹ جائے تو وہ گھر آ کر گھر کی خواتین کو نماز پڑھا سکتا ہے۔

حواشی
(١) في [أ] زيادة: (ليخرج فتفوته).
(٢) في [أ]: (أيؤم).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 6295
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6295، ترقيم محمد عوامة 6209)