مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
من كره ذلك باب: جن حضرات کے نزدیک چار زانو بیٹھ کر نماز پڑھنا مکروہ ہے
حدیث نمبر: 6277
٦٢٧٧ - حدثنا (وكيع) (١) قال: حدثنا جرير بن حازم عن المغيرة (بن) (٢) (حكيم) (٣) (الصنعاني) (٤) قال: رأيت ابن عمر متربعًا في آخر صلاته حين رفع رأسه من السجدة الأخيرة، فلما صلى قلت له: فقال: إني أشتكى رجلي (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ بن حکیم صنعانی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ نماز کے آخر میں آخری سجدہ سے سر اٹھانے کے بعد چار زانو بیٹھے۔ جب انہوں نے نماز پڑھ لی تو میں نے اس بارے میں ان سے سوال کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ میرے پاؤں میں تکلیف ہے۔
حواشی
(١) سقط من: [ب]، وفي [هـ]: (أبو بكر).
(٢) في [أ]: (عن).
(٣) في [جـ، ز، ك]: (حكم).
(٤) في [أ، ب، ز، ك]: (الصنعاني)، وفي [جـ، هـ]: (الصغاني).