مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
من كان يستحب أن يتقدم ولا يتأخر في الصلاة باب: جو حضرات اس بات کو پسند فرماتے تھے کہ نمازی نماز میں آگے بڑھے لیکن پیچھے نہ ہٹے
حدیث نمبر: 6172
٦١٧٢ - حدثنا هشيم عن إسماعيل بن سالم، قال: سألت الشعبي عن رجل وإن يصلي وبين يديه قوم يصلون فانصرفوا قال: يتقدم إلى الحائط بين يديه قال: قلت أفيقرأ وهو يمشي؟ قال: لا، حتى ينتهي إلى المكان الذي يقوم فيه.مولانا محمد اویس سرور
اسماعیل بن سالم فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت شعبی سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا جس کے آگے کچھ لوگ نماز پڑھ رہے ہوں پھر وہ چلے جائیں، اب وہ کیا کرے ؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ اپنی آگے والی دیوار کی طرف بڑھ جائے۔ میں نے پوچھا کہ کیا وہ چلتے ہوئے قرائت کرے گا ؟ انہوں نے فرمایا کہ نہیں جب وہ اس جگہ پہنچ جائے جہاں اس نے کھڑا ہونا ہے پھر قرائت کرے۔