مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
من كان يستحب أن يتقدم ولا يتأخر في الصلاة باب: جو حضرات اس بات کو پسند فرماتے تھے کہ نمازی نماز میں آگے بڑھے لیکن پیچھے نہ ہٹے
حدیث نمبر: 6169
٦١٦٩ - حدثنا محمد بن أبي عدي عن ابن عون قال: قلت لمحمد: الرجل يتقدم إلى الصف في الصلاة قال: لا أعلم بأسًا أن يتقدم خطوة أو خطوتين، وقال: في الذي (يصل) (١) الصف معترضًا (٢): لا أدري ما هو.مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ میں نے محمد سے عرض کیا کہ کیا آدمی دوران نماز صف میں ملنے کے لئے آگے بڑھ سکتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ میرے خیال میں ایک دو قدم آگے بڑھنے میں کوئی حرج نہیں۔ اور انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ یہ جو عرض کی جہت میں صف سے جا کر ملتے ہیں میں نہیں جانتا کہ یہ کیا ہے ؟۔
حواشی
(١) في [هـ]: (يصلي).
(٢) بأن تكون الفرجة في الصف المقدم ليست أمام المصلي.