مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
القرب من المسجد أفضل أم البعد باب: مسجد سے قریب ہو نا زیادہ افضل ہے یا دور ہوتا ؟
حدیث نمبر: 6143
٦١٤٣ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (أنا) (١) حميد الطويل عن أنس بن مالك أن بني سلمة أرادوا أن يتحولوا (عن) (٢) منازلهم (فيبنوا) (٣) قريبًا من المسجد فكره رسول اللَّه ﷺ أن تعرى المدينة فقال: "يا بني سلمة (ألا تحتسبون آثاركم؟) (٤) " قالوا: بلى، فثبتوا (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بنو سلمہ نے ارادہ کیا کہ اپنے علاقے کو چھوڑ کر مسجد کے قریب گھر بنالیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بات کو ناپسند کیا کہ مدینہ گنجان ہوجائے اور فرمایا کہ اے بنو سلمہ ! کیا تم اپنے قدموں پر ثواب کا یقین نہیں رکھتے ؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں۔ پھر انہوں نے اپنی جگہ ہی رہنے کا فیصلہ کرلیا۔
حواشی
(١) في [أ، ب، ز، ك]: (نا).
(٢) في [أ، ب]: (من).
(٣) سقط من: [ط، هـ].
(٤) في [ز، ك]: (تحتسبوا)، وفي [أ]: (لا تحتسبوا).