مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
في الأربع قبل الظهر من كان يستحبها باب: جو حضرات ظہر سے پہلے کی چار رکعات کو مستحب خیال فرماتے تھے
حدیث نمبر: 6073
٦٠٧٣ - حدثنا أبو الأحوص عن شعيد بن مسروق عن المسيب بن رافع قال: قال أبو أيوب الأنصاري: (يا رسول اللَّه) (١) ما أربع ركعات تواظب عليهن قبل الظهر؟ فقال رسول اللَّه ﷺ: "إن أبواب الجنة تفتح عند زوال الشمس فلا (ترتج) (٢) حتى تقام الصلاة فأحب أن أقدم" (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسیب بن رافع کہتے ہیں کہ حضرت ابو ایوب انصاری نے عرض کیا کہ ظہر سے پہلے جن چار رکعتوں کو آپ باقاعدگی سے ادا فرماتے ہیں وہ کیا ہیں ؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ زوال شمس کے وقت جنت کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور اس وقت تک بند نہیں ہوتے جب تک نماز نہ پڑھ لی جائے، میری خواہش یہ ہے کہ سب سے پہلے میری نماز پیش ہو۔
حواشی
(١) سقط من: [ك]، وفي [جـ]: (كلمة غير واضحة).
(٢) في [ب، جـ، ك]: (نرتج)، وفي [أ]: (تربح)، وفي [هـ]: (تروح).