مصنف ابن ابي شيبه
أول العيدين
في الذي يقيء أو يرعف في الصلاة باب: ایک آدمی کو نماز میں قے آجائے یا اس کی نکسیر پھوٹ جائے تو وہ کیا کرے؟
حدیث نمبر: 6046
٦٠٤٦ - حدثنا هشيم قال: (أنا) (١) عبد الحميد (المديني) (٢) عن يزيد بن عبد اللَّه بن قسيط قال: رأيت سعيد بن المسيب رعف وهو في صلاته فأتى دار أم سلمة زوج النبي ﷺ فتوضأ ولم يتكلم، (فبنى) (٣) على صلاته.مولانا محمد اویس سرور
یزید بن عبد اللہ بن قسیط کہتے ہیں کہ نماز میں حضرت سعید بن مسیب کی نکسیر پھوٹ گئی، وہ ام المؤمنین حضرت ام سلمہ کے مکان پر تشریف لائے اور وضو کیا، اس دوران انہوں نے کسی سے بات نہ کی اور واپس جا کر اسی نماز کو مکمل فرمایا۔
حواشی
(١) في [أ، ب، ز، ك]: (نا).
(٢) في [هـ]: (البهي).
(٣) في [هـ]: (وبنى).