مصنف ابن ابي شيبه
أول العيدين
في الذي يقيء أو يرعف في الصلاة باب: ایک آدمی کو نماز میں قے آجائے یا اس کی نکسیر پھوٹ جائے تو وہ کیا کرے؟
حدیث نمبر: 6045
٦٠٤٥ - حدثنا عبد الأعلى عن برد عن مكحول أنه كان يقول: إنه إذا رعف الرجل في صلاته فإنه ينصرف فيتوضأ ثم يجيء (فيبني) (١) على ما مضى ما لم يتكلم إن شاء، فإن أحدث أعاد الوضوء وأعاد الصلاة.مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی کی نماز میں نکسیر پھوٹ گئی تو وہ جا کر وضو کرے اور باقی ماندہ نماز کو پورا کرے اگر کسی سے بات نہ کی ہو۔ اگر اس کا وضو ٹوٹ جائے تو وضو بھی دوبارہ کرے اور نماز بھی دوبارہ پڑھے۔
حواشی
(١) في [هـ]: (يبقى).