مصنف ابن ابي شيبه
أول العيدين
في الذي يقيء أو يرعف في الصلاة باب: ایک آدمی کو نماز میں قے آجائے یا اس کی نکسیر پھوٹ جائے تو وہ کیا کرے؟
حدیث نمبر: 6043
٦٠٤٣ - حدثنا هشيم (أنا) (١) مغيرة عن إبراهيم في صاحب القيء والرعاف والقبلة ينصرف فيتوضأ، فإن لم يتكلم بني على ما بقي وإن تكلم استأنف، وكان يقول في صاحب الغائط والبول: ينصرف فيتوضأ (ويستقبل) (٢) الصلاة.مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم اس شخص کے بارے میں جسے نماز میں قے آجائے یا اس کی نکسیر پھوٹ جائے فرماتے ہیں کہ وہ جا کر وضو کرے۔ اس دوران اگر اس نے بات نہ کی تو وہی نماز پوری کرے اور اگر بات کی تو نئے سرے سے نماز پڑھے۔ ابراہیم پیشاب اور پاخانہ کے لئے جانے والے شخص کے بارے میں فرمایا کرتے تھے کہ وہ جا کر وضو کرے اور نئے سرے سے نماز پڑھے۔
حواشی
(١) في [أ، ب، ز، ك]: (نا).
(٢) في [ب]: (وليستقبل).