مصنف ابن ابي شيبه
أول العيدين
في الذي يقيء أو يرعف في الصلاة باب: ایک آدمی کو نماز میں قے آجائے یا اس کی نکسیر پھوٹ جائے تو وہ کیا کرے؟
حدیث نمبر: 6039
٦٠٣٩ - حدثنا معتمر عن عبيد اللَّه بن عمر قال: أبصرت سالم بن عبد اللَّه صلى صلاة (الغداة) (١) (ركعة) (٢) ثم رعف فخرج فتوضأ ثم جاء فبنى على ما بقي من صلاته.مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید اللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ حضرت سالم بن عبد اللہ نے فجر کی ایک رکعت پڑھی تھی کہ ان کی نکسیر پھوٹ گئی، انہوں نے جا کر وضو کیا پھر باقی نماز ادا فرمائی۔
حواشی
(١) في [أ]: تكرر.
(٢) في [هـ]: (ركعته).