مصنف ابن ابي شيبه
أول العيدين
في الذي يقيء أو يرعف في الصلاة باب: ایک آدمی کو نماز میں قے آجائے یا اس کی نکسیر پھوٹ جائے تو وہ کیا کرے؟
حدیث نمبر: 6036
٦٠٣٦ - حدثنا وكيع قال: (حدثنا) (١) علي بن صالح وإسرائيل عن ⦗٢٧٣⦘ (أبي) (٢) إسحاق عن عاصم بن ضمرة عن علي قال: إذا وجد أحدكم في بطنه (رزًا) (٣) أو قيئًا أو (رعافا) (٤) فلينصرف فليتوضأ ثم ليبن علي صلاته ما لم يتكلم (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر نماز میں کسی آدمی کو اپنے پیٹ میں ہوا، قے یا نکسیر محسوس ہو تو جا کر وضو کرلے اور اگر گفتگو نہ کی ہو تو وہیں سے آگے نماز پڑھے۔
حواشی
(١) في [ل، هـ]: (نا).
(٢) في [أ، ب، جـ، ز، ك]: يادة (أبي).
(٣) [ب، ز، ك]: (رزًا)، وفي [جـ]؛ (زرًا)، وفي [أ، هـ]: (ذرًا).
(٤) في [أ]: (رعاف).