مصنف ابن ابي شيبه
أول العيدين
في (الذي) خلف الصف وحده باب: جو آدمی صف کے پیچھے اکیلا نماز پڑھ رہا ہو اس کا کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 6019
٦٠١٩ - حدثنا ملازم بن عمرو عن عبد اللَّه بن بدر قال: حدثني عبد الرحمن ابن علي بن شيبان عن أبيه (علي) (١) بن شيبان وكان من الوفد (٢) قال: خرجنا حتى قدمنا على النبي ﷺ (فبايعناه) (٣) وصلينا خلفه، فرأى رجلا يصلي خلف الصف وحده فوقف عليه نبي اللَّه ﷺ حتى انصرف فقال: استقبل صلاتك فلا صلاة للذي خلف الصف (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ بن شیبان فرماتے ہیں کہ ہم وفد کی صورت میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، ہم نے آپ کے دست اقدس پر بیعت کی اور آپ کے پیچھے نماز پڑھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو صف کے پیچھے اکیلے نماز پڑھتے دیکھا تو اس کے پاس کھڑے ہوگئے، جب وہ نماز سے فارغ ہوا تو آپ نے فرمایا کہ دوبارہ نماز پڑھو، کیونکہ جس شخص نے صف کے پیچھے نماز پڑھی اس کی نماز نہیں ہوئی۔
حواشی
(١) زيادة: في [ك، أ، ز] (علي).
(٢) ورد في [أ]: (الوافد).
(٣) في [ط، ل، هـ]: (فبايعنا).