مصنف ابن ابي شيبه
أول العيدين
(في القوم يكونون في السواد فتحضر الجمعة أو العيد) باب: گاؤں کے لوگوں کے لئے جمعہ یا عید کا کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 6006
٦٠٠٦ - حدثنا الحسن (بن) (١) موسى قال: حدثنا شيبان عن يحيى بن أبي كثير قال: سئل عطاء بن أبي رباح قال: إذا كانت قرية جامعة فليصلوا ركعتين مثل يوم الجمعة.مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن ابی کثیر فرماتے ہیں کہ اس بارے میں حضرت عطاء بن ابی رباح سے سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ جب گاؤں جامعہ ہو تو وہ جمعہ کی طرح دو رکعات پڑھیں۔ حضرت حکم بن عتیبہ فرماتے ہیں کہ جمعہ امام کے ساتھ جامع مسجد میں ہی ہوتا ہے حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ میرے علم کے مطابق جمعہ خلیفہ وقت کے ساتھ مسلمانوں کے شہروں میں ہوتا ہے۔ حضرت یحییٰ فرماتے ہیں کہ کہا جاتا تھا کہ جمعہ، عید الفطر اور عید الاضحی صرف اس کے لئے ہیں جو امام کے ساتھ حاضر ہو۔
حواشی
(١) في [أ، ك]: (عن).