مصنف ابن ابي شيبه
أول العيدين
(في القوم يكونون في السواد فتحضر الجمعة أو العيد) باب: گاؤں کے لوگوں کے لئے جمعہ یا عید کا کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 6003
٦٠٠٣ - ] (١) حدثنا أبو بكر قال حدثنا سهل ابن يوسف عن ابن عون قال: كتبت إلى نافع أسأله عن القوم يكونون في الرستاق ويحضرهم العيد (هل) (٢) يجتمعون فيصلي بهم رجل (و) (٣) عن الجمعة؟ فكتب إلي: أما العيد فإنهم (يجتمعون) (٤) (فيصلي) (٥) بهم رجل وأما الجمعة فلا علم لي بها.مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت نافع کو خط لکھا اور ان سے پوچھا کہ کیا وہ عید کی نماز اور جمعہ کی نماز کے لئے جمع ہوں گے اور کیا کوئی آدمی انہیں یہ نمازیں پڑھائے گا ؟ انہوں نے جواب میں مجھے لکھا کہ عید کی نماز کے لئے تو وہ جمع ہوں گے اور ایک آدمی انہیں عید کی نماز پڑھائے گا اور جمعہ کی نماز کے بارے میں مجھے کوئی علم نہیں۔
حواشی
(١) سقط من [أ]: (أربعة أخبار).
(٢) في [أ، جـ، ك، ز]: (هل)، وفي [هـ]: (قال).
(٣) سقط من: [أ، ك].
(٤) سقط من: [ط، هـ].
(٥) في [أ، هـ]: (يصلي).