حدیث نمبر: 5974
٥٩٧٤ - حدثنا محمد بن فضيل عن عطاء بن السائب قال: (اجتمع) (١) العيدان في يوم فقام الحجاج في العيد الأول (فقال) (٢): من شاء أن يجمع معنا فليجمع ومن شاء أن ينصرف فلينصرف ولا حرج فقال: أبو البختري وميسرة: ما له قاتله اللَّه من أين سقط على هذا؟.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عطاء بن سائب فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حجاج کے زمانے میں جمعہ اور عید ایک ہی دن آگئے۔ حجاج نے عید کی نماز پڑھائی اور کہا جو شخص ہمارے ساتھ جمعہ پڑھنا چاہے پڑھے اور جو جانا چاہے چلا جائے۔ چلے جانے میں کوئی حرج نہیں۔ اس پر حضرت ابو البختری اور حضرت میسرہ نے کہا کہ اللہ اسے مارے یہ بات اسے کہاں سے پتا چل گئی۔

حواشی
(١) في [جـ]: (اجمع).
(٢) في [ب، ك]: (قال).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / أول العيدين / حدیث: 5974
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5974، ترقيم محمد عوامة 5897)