حدیث نمبر: 5715
٥٧١٥ - حدثنا هشيم عن مغيرة عن إبراهيم قال: بلغه أن تميم بن سلمة خرج يوم الفطر ومعه صاحب له فقال لصاحبه: هل طعمت شيئا؟ قال: لا، فمشى (تميم) (١) إلى بقال فسأله تمرة أن يعطيه أو غير ذلك ففعل فأعطاه صاحبه فأكله فقال إبراهيم: ممشاه إلى رجل يسأله أشد عليه من تركه الطعام لو تركه.
مولانا محمد اویس سرور

ابراہیم فرماتے ہیں کہ تمیم بن سلمہ عید الفطر کی نماز کے لئے نکلے، ان کے ساتھ ان کے ایک ساتھی بھی تھے، انہوں نے اپنے ساتھی سے کہا کہ کیا تم نے کچھ کھایا ہے ؟ انہوں نے کہا نہیں۔ اس پر حضرت تمیم ایک دکاندار کے پاس گئے اور اس سے ایک کھجور یا کوئی اور چیز مانگ کر اپنے ساتھی کو دی جو اس نے کھالی۔ ابراہیم فرماتے ہیں کہ عید کی نماز سے پہلے کچھ نہ کھانا ان کے لیے سوال کرنے سے زیادہ برا تھا۔

حواشی
(١) سقط من: [أ].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / أول العيدين / حدیث: 5715
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5715، ترقيم محمد عوامة 5644)