مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطهارة
الرجل يمس إبطه أيتوضأ؟ باب: کیا بغل کو ہاتھ لگانے والا شخص وضو کرے گا ؟
حدیث نمبر: 570
٥٧٠ - حدثنا ابن علية عن عبيد اللَّه بن العيزار عن طلق بن حبيب قال: رأى عمر بن الخطاب رجلا حك إبطه أو مسه، فقال: قم فاغسل (يديك) (١) أو تطهر (٢).مولانا محمد اویس سرور
ایک مرتبہ حضرت عمر نے ایک آدمی کو دیکھا جو بغل میں خارش کر رہا تھا، آپ نے اس سے فرمایا اٹھو اور ہاتھ دھوؤ یا وضو کرو۔
حواشی
(١) كذا في النسخ، ولعلها: (يدك).
(٢) منقطع؛ طلق لا يروي عن عمر، أخرجه عبد الرزاق (٤٠٤).