مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجمعة
الجمعة يؤخرها الإمام حتى يذهب وقتها باب: اگر امام جمعه کو اتنا مؤخر کر دے کہ وقت جانے لگے تو کیا کیا جائے؟
٥٦٠١ - حدثنا عبد الوهاب الثقفي عن عبد اللَّه بن عثمان (بن) (١) خثيم (عن) (٢) القاسم بن عبد الرحمن عن أبيه أن الوليد (٣) بن عقبة أخر الصلاة بالكوفة وأنا جالس مع أبي في المسجد فقام عبد اللَّه (فثوب) (٤) بالصلاة فصلى للناس ⦗١٧٢⦘ فأرسل إليه الوليد بن عقبة ما حملك على ما صنعت أجاءك من أمير المؤمنين أمر فيما (قبلنا) (٥) فسمع وطاعة أم ابتدعت ما صنعت اليوم قال: لم يأتني من أمير المؤمنين أمر ومعاذ اللَّه أن أكون ابتدعت، أبى اللَّه ورسوله أن ننتظرك بصلاتنا وأنت في حوائجك (٦).حضرت قاسم بن عبد الرحمن اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ولید بن عقبہ نے کوفہ میں نماز میں تاخیر کردی۔ میں مسجد میں اپنے والد کے ساتھ بیٹھا تھا کہ حضرت عبد اللہ کھڑے ہوئے اور نماز کا اعلان کرکے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ ولید بن عقبہ نے پیغام بھیج کر انہیں بلوایا اور ان سے پوچھا کہ آپ نے ایسا کیوں کیا ؟ اگر امیر المؤمنین کی طرف سے آپ کے پاس کوئی حکم آیا ہے تو ہم اسے سنتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں اور اگر ایسا نہیں تو پھر آپ نے آج بدعت کا ارتکاب کیا ہے ؟ حضرت عبداللہ نے فرمایا کہ میرے پاس امیر المؤمنین کی طرف سے کوئی حکم نہیں آیا اور میں بدعت کے ارتکاب سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اس بات کا انکار ہے کہ ہم نماز کے لئے تمہارا انتظار کرتے رہیں اور تم اپنے کاموں میں مشغول رہو۔