حدیث نمبر: 5601
٥٦٠١ - حدثنا عبد الوهاب الثقفي عن عبد اللَّه بن عثمان (بن) (١) خثيم (عن) (٢) القاسم بن عبد الرحمن عن أبيه أن الوليد (٣) بن عقبة أخر الصلاة بالكوفة وأنا جالس مع أبي في المسجد فقام عبد اللَّه (فثوب) (٤) بالصلاة فصلى للناس ⦗١٧٢⦘ فأرسل إليه الوليد بن عقبة ما حملك على ما صنعت أجاءك من أمير المؤمنين أمر فيما (قبلنا) (٥) فسمع وطاعة أم ابتدعت ما صنعت اليوم قال: لم يأتني من أمير المؤمنين أمر ومعاذ اللَّه أن أكون ابتدعت، أبى اللَّه ورسوله أن ننتظرك بصلاتنا وأنت في حوائجك (٦).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت قاسم بن عبد الرحمن اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ولید بن عقبہ نے کوفہ میں نماز میں تاخیر کردی۔ میں مسجد میں اپنے والد کے ساتھ بیٹھا تھا کہ حضرت عبد اللہ کھڑے ہوئے اور نماز کا اعلان کرکے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ ولید بن عقبہ نے پیغام بھیج کر انہیں بلوایا اور ان سے پوچھا کہ آپ نے ایسا کیوں کیا ؟ اگر امیر المؤمنین کی طرف سے آپ کے پاس کوئی حکم آیا ہے تو ہم اسے سنتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں اور اگر ایسا نہیں تو پھر آپ نے آج بدعت کا ارتکاب کیا ہے ؟ حضرت عبداللہ نے فرمایا کہ میرے پاس امیر المؤمنین کی طرف سے کوئی حکم نہیں آیا اور میں بدعت کے ارتکاب سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اس بات کا انکار ہے کہ ہم نماز کے لئے تمہارا انتظار کرتے رہیں اور تم اپنے کاموں میں مشغول رہو۔

حواشی
(١) في [أ، ب]: (عن).
(٢) في [أ، ب]: (بن).
(٣) من هنا يبدأ خرم البياض في [ب] إلى حديث رقم (٥٧٠٠).
(٤) في [هـ]: (فنور).
(٥) في [ز]: (قلنا).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجمعة / حدیث: 5601
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5601، ترقيم محمد عوامة 5532)