مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطهارة
من كان يرى الوضوء مما غيرت النار باب: جس چیز کو آگ نے بدل دیا ہو اس سے وضو کا بیان
حدیث نمبر: 560
٥٦٠ - حدثنا ابن علية عن أيوب عن أبي قلابة قال: أتيت أنس بن مالك، فلم أجده، فقعدت أنتظره، فجاء وهو مغضب، فقال: كنت عند هذا -يعني: الحجاج- فأكلوا، ثم قاموا، فصلوا ولم يتوضؤوا. فقلت: أو ما كنتم تفعلون هذا يا أبا حمزة، قال: ما كنا نفعله (١).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو قلابہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت انس کی خدمت میں حاضر ہوا وہ موجود نہ تھے، میں بیٹھ کر ان کا انتظار کرنے لگا۔ جب وہ واپس آئے تو انتہائی غصہ میں تھے، فرمانے لگے میں اس (حجاج) کے پاس سے آ رہا ہوں، لوگوں نے کھانا کھایا اور بغیر وضو کئے اٹھ کر نماز پڑھنے لگے۔ میں نے حضرت انس سے پوچھا کہ ” اے ابو حمزہ ! کیا آپ ایسا نہ کیا کرتے تھے “۔ انہوں نے فرمایا ” ہم ایسا نہیں کیا کرتے تھے۔