مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطهارة
من كان يرى الوضوء مما غيرت النار باب: جس چیز کو آگ نے بدل دیا ہو اس سے وضو کا بیان
حدیث نمبر: 554
٥٥٤ - حدثنا (ابن) (١) نمير قال حدثنا عثمان بن حكيم عن الزهري عن أبي سفيان بن (سعيد) (٢) بن المغيرة بن الأخنس: أنه دخل على خالته أم حبيبة، فسقته شربة من سويق، ثم قالت: يا (ابن أختي) (٣) (توضأ) (٤)؛ فإني سمعت ⦗١١٣⦘ رسول اللَّه ﷺ يقول: "توضؤوا مما مست النار" (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سفیان بن مغیرہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنی خالہ ام حبیبہ کے پاس گیا، انہوں نے مجھے ستو کا شربت پلایا پھر فرمایا ” اے بھانجے ! وضو کرلو، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس چیز کو آگ نے چھوا ہو اسے استعمال کرنے کے بعد وضو کرلو۔
حواشی
(١) في [هـ]: (أبا).
(٢) سقط من: [جـ].
(٣) في [د]: (ابن أخي).
(٤) في [ك]: (توضّه).
(٥) مجهول لجهالة أبي سفيان، أخرجه عبد الرزاق (٦٦٥) والطحاوي ١/ ٦٢ وأحمد (٢٦٧٧٩) والنسائي ١/ ١٠٧، وأبو يعلى (٧١٤٥) والطبراني ٢٣ (٤٦٣) والطيالسي (١٥٩٢).