مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطهارة
من كان لا يتوضأ مما مست النار باب: جس چیز کو آگ نے چھوا ہو اس کے استعمال سے وضو نہیں ٹوٹتا
٥٥٢ - حدثنا غندر عن شعبة قال: سمعت عثمان مولى ثقيف يحدث عن أبي زياد قال: شهدت ابن عباس وأبا هريرة وهم ينتظرون جديا لهم في التنور، فقال ابن عباس: (أخرجوه لنا لا يفتنا في الصلاة)، فأخرجوه، فأكلوا منه، ثم أن أبا هريرة توضأ، فقال له ابن عباس: (أكلنا) (١) رجسا؟ قال: فقال أبو هريرة: أنت خير مني وأعلم ثم صلوا (٢).حضرت ابو زیاد فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اور حضرت ابوہریرہ کو دیکھا کہ وہ تنور میں بھونی جانے والی بکری کے پکنے کا انتظار کر رہے تھے۔ اتنے میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا اسے لے آؤ کہیں ہماری نماز خراب نہ ہوجائے (یعنی بھوک کی شدت کی وجہ سے) پس اسے نکالا گیا اور سب نے اسے کھایا۔ پھر حضرت ابوہریرہ وضو کرنے لگے تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے پوچھا ” کیا ہم نے کوئی ناپاک چیز کھائی ہے ؟ “ اس پر حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا آپ مجھ سے بہتر ہیں اور مجھ سے زیادہ جانتے ہیں “ پھر سب نے نماز پڑھ لی۔