حدیث نمبر: 5477
٥٤٧٧ - حدثنا هشيم بن (بشير) (١) قال (حدثنا) يونس (بن) (٢) عبيد عن حميد بن هلال عن عمران بن حصين أنه كان يصلي بعد الجمعة ركعتين فقيل له: يا (أبا نجيد) (٣) ما يقول الناس، قال: وما يقولون، قال: يقولون: إنك تصلي ركعتين إلى الجمعة فتكون أربعا قال: فقال عمران: لأن (تختلف) (٤) (النيازك) (٥) بين أضلاعي أحب إليَّ من أن أفعل ذلك فلما (كانت) (٦) الجمعة المقبلة صلى الجمعة ثم احتبى فلم يصلّ شيئا حتى أقيمت صلاة العصر (٧).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت حمید بن ہلال کہتے ہیں کہ حضرت عمران بن حصین جمعہ کے بعد دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔ ان سے کسی نے کہا اے ابو نجید ! آپ نے کچھ سنا کہ لوگ کیا کہتے ہیں ؟ انہوں نے پوچھا لوگ کیا کہتے ہیں ؟ بتانے والے نے بتایا کہ لوگ کہتے ہیں کہ حضرت عمران اس لئے دو رکعتیں پڑھتے ہیں تاکہ چار رکعتیں پوری ہوجائیں ! حضرت عمران نے فرمایا کہ میرے سینے میں پے در پے نیزوں کے وار ہوں یہ مجھے اس بات سے زیادہ محبوب ہے کہ میں وہ کام کروں جو لوگ میرے بارے میں کہہ رہے ہیں۔ اس کے بعد اگلے جمعے انہوں نے جمعہ کی نماز پڑھی، پھر حبوہ بنا کر بیٹھ گئے اور عصر کی نماز تک انہوں نے کوئی نماز نہ پڑھی۔

حواشی
(١) في [أ، ب]: (بشر).
(٢) في [أ]: (عن).
(٣) في [أ]: (فراغ).
(٤) في [أ، ط، هـ]: (يختلف).
(٥) في [أ]: (المبارك)، وفي [جـ]: (النازل)، وفي [د، هـ]: (التنازل)، وفي [س]: (النازل).
(٦) في [ب]: (كان)، وفي [أ]: (فكانت).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجمعة / حدیث: 5477
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5477، ترقيم محمد عوامة 5409)