حدیث نمبر: 5104
٥١٠٤ - حدثنا أبو أسامة عن يحيى بن ميسرة قال: سألت (عمرو بن مرة) (١) عن غسل يوم الجمعة سنّة؟ فقال: كان المسلمون يغتسلون، فأعدت عليه، فلم يزدنى عليَّ أن قال: كان المسلمون يغتسلون، فعرفت أنه شيء استحبه المسلمون وليس بسنَّة.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو اسامہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت یحییٰ بن میسرہ سے جمعہ کے دن کے غسل کے بارے میں سوال کیا کہ کیا جمعہ کے دن غسل کرنا سنت (ضروری) ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ مسلمان جمعہ کے دن غسل کیا کرتے تھے۔ میں نے یہی سوال دوبارہ کیا تو انہوں نے مجھے یہی جواب دیا کہ مسلمان جمعہ کے دن غسل کیا کرتے تھے۔ میں سمجھ گیا کہ جمعہ کے دن غسل کرنا مستحب ہے۔ ضروری نہیں ہے۔

حواشی
(١) سقط من: [أ، ب، جـ، د، ز، س، ط، هـ، ك]، والمثبت من [ل]: وكتب التراجم، فإن يحيى مشهور بالرواية عن عمرو بن مرة، انظر: التاريخ الكبير ٨/ ٣٠٥، والجرح والتعديل ٩/ ١٨٩، والكنى لمسلم ٢/ ٩١٣، والثقات ٧/ ٥٩٩.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجمعة / حدیث: 5104
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5104، ترقيم محمد عوامة 5049)