مصنف ابن ابي شيبه
سجود السهو والعمل في الصلاة
في القوم يكونون عراة وتحضر الصلاة باب: اگر لوگوں کے پاس کپڑے نہ ہوں اور نماز کا وقت ہو جائے تو وہ کیا کریں؟
حدیث نمبر: 5077
٥٠٧٧ - حدثنا عيسى بن يونس عن الأوزاعي عن واصل عن مجاهد أن عمر بن عبد العزيز سأله (عن) (١) قوم انكسرت بهم سفينتهم (فخرجوا) (٢) فحضرت الصلاة فقال: يكون أمامهم ميسرتهم ويصفون صفا واحدا ويستتر كل رجل منهم بيده اليسرى على فرجه من غير أن يمس الفرج.مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد کہتے ہیں کہ انہوں نے حضرت عمر بن عبد العزیز سے ان لوگوں کے بارے میں سوال کیا جن کی کشتی ٹوٹ جائے اور وہ باہر نکلیں تو نماز کا وقت ہوجائے (اور ان کے بدن پر کپڑے نہ ہوں ) تو وہ کیا کریں گے ؟ فرمایا ان کا امام ان کے بائیں طرف ہوگا۔ وہ سب ایک صف بنائیں گے۔ ہر آدمی اپنے بائیں ہاتھ سے اپنی شرم گاہ کا ستر کرے گا لیکن شرم گاہ کو چھوئے گا نہیں۔
حواشی
(١) سقط: من [ب]: (عن).
(٢) سقط من: [هـ].