مصنف ابن ابي شيبه
سجود السهو والعمل في الصلاة
في القوم يكونون عراة وتحضر الصلاة باب: اگر لوگوں کے پاس کپڑے نہ ہوں اور نماز کا وقت ہو جائے تو وہ کیا کریں؟
حدیث نمبر: 5076
٥٠٧٦ - حدثنا أبو بكر قال حدثنا حفص بن غياث عن ابن جريج عن عطاء سئل عن قوم انكسرت بهم سفينتهم فأدركتهم الصلاة وهم في الماء قال: يومئون إيماء، ⦗٦٥⦘ فإن خرجوا عراة قال: يصلّون قعودا (١) (٢).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ حضرت عطاء سے ان لوگوں کے بارے میں سوال کیا گیا جن کی کشتی ٹوٹ جائے اور پانی میں انہیں نماز کا وقت ہوجائے۔ انہوں نے فرمایا کہ وہ اشارے سے نماز پڑھیں گے۔ اگر وہ ننگے نکل آئیں تو بیٹھ کر نماز پڑھیں گے۔
حواشی
(١) في [أ، ب]: (فرادى).
(٢) أخرجه عبد الرزاق (٤٥٦١)، وأبو يعلى كما في المطالب (٣٢٤).