مصنف ابن ابي شيبه
سجود السهو والعمل في الصلاة
ما قالوا إذا كانوا ثلاثة يتقدم الإمام باب: جب مقتدی تین ہوں تو امام آگے بڑھ جائے
حدیث نمبر: 5025
٥٠٢٥ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا) (١) محمد بن فضيل عن هارون بن عنترة عن عبد الرحمن بن الأسود قال: استاذن علقمة (والأسود) (٢) على عبد اللَّه فأذن لهما وقال: إنه سيكون أمراء يشغلون عن وقت الصلاة فصلوها لوقتها ثم قام (فصلى) (٣) بيني وبينه وقال: هكذا رأيت رسول اللَّه ﷺ فعل (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدا لرحمن بن اسود کہتے ہیں کہ حضرت علقمہ اور حضرت اسود نے حضرت عبد اللہ کی خدمت میں حاضری کی اجازت مانگی۔ انہیں اجازت مل گئی۔ حضرت عبد اللہ نے ان سے فرمایا کہ عنقریب ایسے امراء آئیں گے جو نمازوں کو ان کے وقت سے مؤخر کیا کریں گے، ایسے وقت میں تم نمازوں کو ان کے وقت پر ادا کرنا۔ پھر وہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے ہم دونوں کے درمیان نماز پڑھی۔ پھر فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یونہی کرتے دیکھا ہے۔
حواشی
(١) في [جـ، ك]: (نا).
(٢) سقط: (الأسود) في [د].
(٣) سقط من: [ط، هـ].
(٤) منقطع؛ عبد الرحمن لم يدرك ابن مسعود، أخرجه أحمد (٤٥٣٠)، وأبو داود (٦١٣)، والنسائي ٢/ ٨٤، وأبو يعلى (٥١٩١). والطحاوي ١/ ٢٢٩، وأصله عند مسلم (٥٣٤).