مصنف ابن ابي شيبه
سجود السهو والعمل في الصلاة
الرجل يدخل المسجد وهو يرى أنهم قد صلوا الفريضة فيصلي باب: جو حضرات اس صورت میں فرماتے ہیں کہ وہ باقی نماز کو امام کے ساتھ پورا کرے اور اس باقی نماز کونفل بنائے
حدیث نمبر: 4933
٤٩٣٣ - حدثنا علي بن مسهر عن إسماعيل بن أبي خالد قال: سمعت الشعبي يقول: إذا دخل الرجل في الفريضة ثم (فجاءته) (١) الإقامة قطعها، وكانت له نافلة ودخل في الفريضة.مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ اگر کوئی آدمی فرض نماز شروع کرے اور اسی نماز کے لئے اقامت کہہ دی جائے تو وہ اپنی نماز توڑ دے، وہ اس کے لئے نفل بن جائے گی اور وہ ان کے ساتھ فرض نماز میں داخل ہوجائے۔
حواشی
(١) في [ب]: (فجاءته)، وفي [أ، هـ]: (فجئته).