حدیث نمبر: 4925
٤٩٢٥ - حدثنا عبد السلام (بن) (١) حرب عن ابن أبي فروة عن أبي بكر بن المنكدر عن سعيد بن المسيب أن عمر رأى (رجلا) (٢) يصلي ركعتين والمؤذن يقيم فانتهره وقال: لا صلاة والمؤذن يقيم إلا الصلاة (٣) التي تقام لها الصلاة (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے ایک آدمی کو دیکھا وہ مؤذن کی اقامت کے دوران دو رکعتیں پڑھ رہا تھا۔ انہوں نے اسے ڈانٹا اور فرمایا کہ جب مؤذن اقامت کہے تو اس وقت سوائے اس نماز کے کوئی نماز نہیں ہوتی جس کے لئے اقامت کہی جارہی ہے ۔

حواشی
(١) في [أ]: (عن).
(٢) في [ب]: (جلًا).
(٣) في [أ] زيادة: (المكتوبة).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / سجود السهو والعمل في الصلاة / حدیث: 4925
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف جدًا؛ ابن أبي فروة منكر الحديث.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4925، ترقيم محمد عوامة 4880)