حدیث نمبر: 4903
٤٩٠٣ - حدثنا أبو بكر قال حدثنا وكيع عن عبيد اللَّه بن عبد الرحمن بن (موهب) (١) عن عمه عن مولى لأبي سعيد الخدري (أنه كان مع أبي سعيد ⦗٣١⦘ الخدري) (٢) وهو مع رسول اللَّه ﷺ جالس قال: فدخل النبي ﷺ المسجد (٣) فرأى رجلًا جالسا وسط المسجد مشبكا أصابعه يحدث (٤) نفسه قال: فأومأ إليه النبي ﷺ فلم يفطن فالتفت إلى أبي سعيد الخدري فقال: "إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلَا يَشْبِكَنَّ (٥) بَيْنَ أَصَابِعِهِ فَإِنَّ التَّشْبِيكَ مِنَ الشَّيْطَانِ وَإِنَّ أحَدَكُمْ لَا يَزَالَ فِي صَلَاةٍ مَا دَامَ فِي الْمَسْجِدِ حَتَّى يَخْرُجَ مِنْهُ" (٦).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو سعید خدری فرماتے ہیں کہ وہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے۔ آپ مسجد میں داخل ہوئے تو ایک آدمی کو دیکھا جو مسجد کے درمیان بیٹھا ہوا انگلیوں کو چٹخا رہا تھا اور اپنے آپ سے باتیں کررہا تھا۔ آپ نے اشارے سے اسے منع کیا لیکن وہ نہ سمجھا۔ پھر آپ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت ابو سعید خدری کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو اپنی انگلیوں کو نہ چٹخائے۔ کیونکہ انگلیوں کو ایک دوسرے میں داخل کرنا شیطان کی طرف سے ہے۔ تم اس وقت تک نماز میں ہوتے ہو جب تک مسجد میں ہوتے ہو۔

حواشی
(١) في [أ، ب، ف، هـ]: (وهب).
(٢) سقط من: [ب].
(٣) في [ك]: زياد (قال).
(٤) في [ب، ط، هـ]: زيادة (عن).
(٥) في [أ]: (يشبك).
(٦) مجهول؛ مولى أبي سعيد وعم عبيد اللَّه مجهولان، أخرجه أحمد (١١٥١٢).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / سجود السهو والعمل في الصلاة / حدیث: 4903
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4903، ترقيم محمد عوامة 4859)