مصنف ابن ابي شيبه
سجود السهو والعمل في الصلاة
الرجل يسلم عليه في الصلاة باب: جو حضرات ہاتھ یا سر سے سلام کا جواب دیا کرتے تھے
حدیث نمبر: 4889
٤٨٨٩ - حدثنا ابن فضيل عن الأعمش (عن إبراهيم عن علقمة) (١) عن عبد اللَّه قال: كنا نسلم على النبي ﷺ وهو في الصلاة قبل أن نخرج إلى النجاشي فيرد علينا فلما رجعنا من عند النجاشي سلمت عليه فلم يرد (و) (٢) قال: "إِنَّ فِي الصَّلَاةِ شُغْلًا" (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ نجاشی کے پاس جانے سے پہلے ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کیا کرتے تھے اور آپ ہمیں سلام کا جواب دیتے تھے۔ جب ہم نجاشی کے پاس سے واپس آئے تو میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کیا لیکن آپ نے سلام کا جواب نہ دیا اور نماز مکمل کرنے کے بعد فرمایا کہ نماز کی اپنی ایک مصروفیت ہوتی ہے۔
حواشی
(١) في [أ]: (عن علقمة عن إبراهيم).
(٢) زيادة (و) في [أ، جـ، ك].