مصنف ابن ابي شيبه
سجود السهو والعمل في الصلاة
(في) الرجل يتشاغل في الحرب أو نحوه كيف يصلي باب: اگر آدمی کا تلاوت قرآن کا وظیفہ چھوٹ جائے تو اسے کب ادا کر
٤٨٥٨ - حدثنا يزيد بن هارون قال (أخبرنا) (١) ابن أبي ذئب عن المقبري عن عبد الرحمن بن أبي سعيد الخدري عن أبيه قال: (قال) (٢) حبسنا يوم الخندق عن الظهر والعصر والمغرب والعشاء حتى كفينا ذلك وذلك قوله تعالى: ﴿وَكَفَى اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتَالَ وَكَانَ اللَّهُ قَوِيًّا عَزِيزًا﴾ [الأحزاب: ٢٥]، فقام رسول اللَّه ﷺ فأمر بلالًا فأقام الصلاة ثم صلى الظهر كما كان يصليها قبل ذلك، ثم أقام فصلى العصر كما كان يصليها قبل ذلك، ثم أقام (٣) (فصلى) (٤) المغرب كما كان يصليها قبل ذلك، ثم أقام العشاء فصلاها كما كان يصليها قبل ذلك، قبل أن تنزل: ﴿فَإِنْ ⦗٢١⦘ خِفْتُمْ فَرِجَالًا أَوْ رُكْبَانًا﴾ [البقرة: ٢٣٩] (٥).حضرت ابو سعید فرماتے ہیں کہ غزوہ خندق میں ہم ظہر، عصر ، مغرب اور عشاء کی نماز نہ پڑھ سکے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا { وَکَفَی اللَّہُ الْمُؤْمِنِینَ الْقِتَالَ وَکَانَ اللَّہُ قَوِیًّا عَزِیزًا } پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور حضرت بلال کو حکم دیا انہوں نے نماز کے لئے اقامت کہی، پھر ظہر کی نماز پڑھی جس طرح پہلے نماز پڑھا کرتے تھے۔ پھر عصر کے لئے اقامت کہی اور عصر کی نماز پڑھی جس طرح پہلے پڑھا کرتے تھے۔ پھر مغرب کی نماز پڑھی جس طرح پہلے پڑھا کرتے تھے۔ پھر عشاء کی نماز کے لئے اقامت کہی اور عشاء کی نماز اس طرح پڑھی جس طرح پہلے پڑھا کرتے تھے۔ یہ عمل اس آیت کے نازل ہونے سے پہلے کا ہے { فَإِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالاً أَوْ رُکْبَانًا }۔