مصنف ابن ابي شيبه
سجود السهو والعمل في الصلاة
(في الرجل) يصلي بالقوم الظهر والعصر باب: ایک آدمی حضر میں کچھ نمازیں پڑھنا بھول جائے اور اسے وہ سفر میں یاد آئیں تو وہ انہیں کیسے ادا کرے؟
حدیث نمبر: 4845
٤٨٤٥ - حدثنا ابن علية عن عباد بن منصور قال: انتهيت إلى المسجد الجامع وأنا أرى أنهم لم يصلوا الظهر فقمت أتطوع حتى أقيمت الصلاة فلما صلوا (إذا) (١) هي العصر فقمت فصليت بهم الظهر ثم صليت العصر ثم أتيت الحسن فذكرت ذلك له فأمرني (بمثل) (٢) الذي صنعت.مولانا محمد اویس سرور
حضرت عباد بن منصور کہتے ہیں کہ میں جامع مسجد حاضر ہوا، میں نے دیکھا کہ لوگوں نے ابھی ظہر کی نماز نہیں پڑھی ہے۔ میں ظہر کے انتظار میں نفل پڑھنے لگا اتنے میں جماعت کھڑی ہوگئی۔ جب انہوں نے نماز پڑھ لی تو مجھے معلوم ہوا کہ یہ عصر کی نماز تھی۔ چناچہ میں نے پھر اپنی ظہر کی نماز ادا کی۔ پھر عصر کی نماز پڑھی۔ پھر میں حسن کے پاس آیا اور ان سے اس مسئلہ کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے مجھے اسی کا حکم دیا جو میں نے کیا تھا۔
حواشی
(١) في [ب، أ]: (إذ).
(٢) في [أ]: (مثل).