حدیث نمبر: 4832
٤٨٣٢ - حدثنا مروان بن معاوية عن عوف عن أبي رجاء عن عمران بن حصين قال: (كنا) (١) مع رسول اللَّه ﷺ في سفر وإنا سرينا (الليلة) (٢) حتى إذا كان آخر الليل ⦗١٥⦘ (وقعنا تلك الوقعة ولا وقعة) (٣) عند المسافر أحلى منها فما أيقظنا إلا حر الشمس فجعل عمر يكبر فلما استيقظ شكى (٤) الناس إليه ما أصابهم فقال: "لا ضير"، (قال) (٥): فارتحلوا فساروا غير بعيد ثم نزل فنودي بالصلاة فصلى بالناس (٦).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عمران بن حصین فرماتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے۔ ہم نے رات کو سفر کیا، رات کے آخری حصہ میں ہم نے پڑاؤ ڈالا اور اس پڑاؤ سے زیادہ محبوب کوئی پڑاؤ مسافر کے لئے نہیں ہوتا۔ پھر ہم ایسا سوئے کہ سورج کی گرمی نے ہمیں بیدار کیا۔ حضرت عمر اس موقع پر تکبیر کہنے لگے۔ جب لوگ بیدار ہوئے تو انہوں نے اس واقعہ کی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شکایت کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی پریشانی کی بات نہیں۔ یہاں سے چل پڑو۔ ابھی تھوڑا دور ہی گئے تھے کہ پھر قیام ہوا اور اذان دی گئی، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔

حواشی
(١) في [أ، ب، جـ، ك]: (كنا)، وفي [هـ، د]: (سرنا).
(٢) في [ب، ط، هـ]: (الليل).
(٣) في [أ]: (وقفنا تلك الوقفة ولا وقفة).
(٤) سقط من: [ب].
(٥) في [ب]: سقط (قال).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / سجود السهو والعمل في الصلاة / حدیث: 4832
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه البخاري (٣٤٨)، ومسلم (٦٨٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4832، ترقيم محمد عوامة 4791)