مصنف ابن ابي شيبه
سجود السهو والعمل في الصلاة
من كان يقول: لا (يصليها) حتى تطلع الشمس باب: اگر کوئی آدمی نماز پڑھ رہا ہو اور دوران نماز سے کوئی دوسری نماز یاد آ جائے
حدیث نمبر: 4831
٤٨٣١ - حدثنا وكيع عن علي بن المبارك عن يحيى عن أبي سلمة عن جابر قال: جاء عمر يوم الخندق فجعل يسب كفار قريش ويقول: يا رسول اللَّه ما صليت العصر حتى كادت الشمس أن تغيب فقال رسول اللَّه ﷺ: "وأنَا وَاللَّهِ مَا صَلَّيْتُ بَعْدُ"، فنزل فتوضأ ثم صلى (العصر) (١) بعد ما غربت الشمس ثم صلى المغرب بعد ما صلى العصر (٢).مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ غزوہ ٔ خندق میں حضرت عمر قریشی سرداروں کو برا بھلا کہتے ہوئے آئے۔ وہ کہہ رہے تھے کہ اے اللہ کے رسول ! میں نے عصر کی نماز نہیں پڑھی یہاں تک کہ سورج غروب ہونے کے قریب ہوگیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ خدا کی قسم ! میں نے بھی ابھی تک نماز نہیں پڑھی۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضو فرمایا اور سورج غروب ہونے کے بعد عصر کی نماز پڑھی اور عصر کے بعد مغرب کی نماز ادا فرمائی۔
حواشی
(١) سقط من: [أ].