مصنف ابن ابي شيبه
سجود السهو والعمل في الصلاة
من كان يقول: لا (يصليها) حتى تطلع الشمس باب: اگر کوئی آدمی نماز پڑھ رہا ہو اور دوران نماز سے کوئی دوسری نماز یاد آ جائے
٤٨٣٠ - حدثنا هشيم قال: (أنا) (١) حصين بن عبد الرحمن قال: (حدثنا) (٢) عبد اللَّه ابن أبي قتادة عن أبيه أبي قتادة قال: (سرنا) (٣) مع رسول اللَّه ﷺ ونحن في ⦗١٤⦘ سفر ذات ليلة قال: قلنا (٤) يا رسول اللَّه لو عرست بنا فقال: "إِنِّي أَخَافُ أَنْ تَنَامُوا عَنِ الصَّلَاةِ فَمَنْ يُوقِظُنَا لِلصَّلَاةِ؟ " (٥) فقال بلال: أنا يا رسول اللَّه، قال: فعرس بالقوم واضطجعوا واستند بلال إلى راحلته فغلبته عيناه واستيقظ رسول اللَّه ﷺ وقد طلع حاجب الشمس فقال: "يَا بِلَالُ أَيْنَ مَا قُلْتَ لَنَا؟ " فقال: يا رسول اللَّه والذي بعثك بالحق ما ألقيت عليَّ نومة مثلها قال فقال: "إِنَّ اللَّهَ قَبَضَ أرْوَاحَكُمْ حِينَ شَاءَ وَرَدَّهَا عَلَيْكُمْ حِينَ شَاءَ"، قال: ثم أمرهم فانتشروا لحاجتهم وتوضؤوا وارتفعت الشمس فصلى بهم الفجر (٦).حضرت ابو قتادہ فرماتے ہیں کہ ایک رات حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے۔ رات کو ہم نے کہا کہ یارسول اللہ ! اگر اس وقت ہم پڑاؤ ڈال لیں تو اچھا ہو۔ آپ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے ڈر ہے تم نماز کے وقت میں سوئے رہو گے۔ ہمیں نماز کے لئے کون جگائے گا ؟ حضرت بلال نے کہا کہ میں جگاؤں گا۔ چناچہ لوگوں نے پڑاؤ ڈالا اور سو گئے۔ حضرت بلال نے اپنی سواری سے ٹیک لگائی اور ان پر نیند غالب آگئی۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہوئے تو سورج طلوع ہوچکا تھا۔ آپ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے بلال ! جو بات تم نے کہی تھی وہ کیا ہوئی ؟ انہوں نے عرض کیا کہ جیسی نیند مجھے آج آئی اب سے پہلے کبھی نہیں آئی۔ آپ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہاری روحوں کو جب چاہتا ہے قبض کرلیتا ہے اور جب چاہتا ہے چھوڑ دیتا ہے۔ پھر آپ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کو اپنی ضروریات کے لئے منتشر ہونے کا حکم دیا اور انہوں نے وضو کیا۔ جب سورج بلند ہوگیا تو آپ نے انہیں فجر کی نماز پڑھائی۔