مصنف ابن ابي شيبه
سجود السهو والعمل في الصلاة
الرجل ينسى الصلاة أو ينام عنها باب: جو حضرات فرماتے ہیں کہ بھولی ہوئی نماز کو اس وقت تک قضا نہ کرے جب تک سورج غروب یا طلوع نہ ہو جائے
حدیث نمبر: 4818
٤٨١٨ - حدثنا هشيم قال (أخبرنا) (١) مغيرة عن إبراهيم قال: من نام عن صلاة أو نسيها قال: يصلي (متى) (٢) ذكرها عند طلوع الشمس أو عند غروبها ثم (قرأ) (٣): ﴿وَأَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي﴾ [طه: ١٤]، قال: إذا ذكرتها (فصلها) (٤) في أي ساعة (كنت) (٥).مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص نماز پڑھنا بھول جائے یا نماز کے وقت سویا رہ جائے تو طلوع شمس یا غروب شمس کے وقت اسے جب بھی یاد آجائے اس وقت پڑھ لے۔ پھر انہوں نے اس آیت کی تلاوت فرمائی { أَقِمِ الصَّلاَۃ لِذِکْرِی } پھر فرمایا کہ جب تمہیں یاد آجائے اس وقت پڑھ لو خواہ وہ کوئی بھی وقت ہو۔
حواشی
(١) في [أ، جـ، ك]: (أنا).
(٢) في [هـ]: (حتى).
(٣) في [أ، ب]: (قال).
(٤) في [أ، ب، جـ، ك]: (فصلها).
(٥) في [أ، ب، ط، هـ]: (كانت).