مصنف ابن ابي شيبه
سجود السهو والعمل في الصلاة
الرجل ينسى الصلاة أو ينام عنها باب: جو حضرات فرماتے ہیں کہ بھولی ہوئی نماز کو اس وقت تک قضا نہ کرے جب تک سورج غروب یا طلوع نہ ہو جائے
حدیث نمبر: 4813
٤٨١٣ - حدثنا الفضل بن دكين عن عبد الجبار [(بن) (١) عباس] (٢) عن عون بن أبي جحيفة عن أبيه قال: كان رسول اللَّه ﷺ في (سفره) (٣) الذي ناموا فيه حتى طلعت الشمس ثم قال: "إِنَّكُمْ كُنْتُمْ أَمْوَاتًا فَرَدَّ اللَّهُ إلَيْكُمْ أَرْوَاحَكُمْ فَمَنْ نَامَ عَنْ صَلَاةٍ أوْ نَسِي صَلَاةً فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذكَرَهَا وَإِذَا اسْتيْقَظَ" (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جحیفہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سفر میں جس میں سب سوئے رہ گئے اور سورج طلوع ہوگیا تھا ، فرمایا ” تم مردہ حالت میں تھے، اللہ تعالیٰ نے تمہارے اندر تمہاری روحوں کو واپس لوٹایا۔ جو نماز کے وقت سو جائے یا اسے نماز پڑھنا بھول جائے تو جب جاگے اور جب اسے یاد آئے اس وقت پڑھ لے۔
حواشی
(١) في [ب، د، هـ]: (عن).
(٢) سقط من: [أ].
(٣) في [أ، ب]: (سفرة).