مصنف ابن ابي شيبه
سجود السهو والعمل في الصلاة
الرجل ينسى الصلاة أو ينام عنها باب: جو حضرات فرماتے ہیں کہ بھولی ہوئی نماز کو اس وقت تک قضا نہ کرے جب تک سورج غروب یا طلوع نہ ہو جائے
٤٨١١ - حدثنا غندر (١) عن شعبة عن جامع بن شداد قال سمعت عبد الرحمن ابن أبي علقمة قال سمعت عبد اللَّه بن مسعود قال: أقبلنا مع رسول اللَّه ﷺ من الحديبية فذكروا أنهم نزلوا دهاسا (٢) من الأرض، يعني (بالدهاس) (٣): الرمل، قال: فقال رسول اللَّه ﷺ: "مَنْ يَكْلَؤُنَا؟ " فقال بلال: (أنا) (٤) فقال النبي ﷺ: "إِذن (نَنَامُ) (٥) " قال: فناموا حتى طلعت عليهم الشمس قال: فاستيقظ ناس فيهم فلان وفلان وفيهم عمر فقلنا: (اهضبوا) (٦) يعني تكلموا، قال فاستيقظ النبي ﷺ فقال: "افْعَلُوا كَمَا كُنْتُمْ تَفْعَلُونَ"، قال: كَذَلَكِ لِمْن نَامَ أَوْ نَسِيَ (٧).حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حدیبیہ سے واپس آرہے تھے تو ہم نے ایک ریتلی زمین پر پڑاؤ ڈالا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ہمیں کون جگائے گا ؟ حضرت بلال نے عرض کیا کہ میں جگاؤں گا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تو پھر ہم سو جاتے ہیں۔ چناچہ سب لوگ سو گئے اور سوئے رہے یہاں تک کہ سورج طلوع ہوگیا۔ پھر کچھ لوگ اٹھے جن میں فلاں فلاں اور حضرت عمر بھی تھے۔ ہم نے کہا کہ چلو بات کرو۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی بیدار ہوئے اور فرمایا کہ جس طرح تم کررہے تھے کرتے رہو۔ چناچہ ہم نے ایسا ہی کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص نماز کے وقت سو جائے یا بھول جائے اس کے لئے یہی حکم ہے۔