مصنف ابن ابي شيبه
سجود السهو والعمل في الصلاة
في الرجل ينسى الصلوات جميعا باب: ایک آدمی عشاء کی نماز پڑھنے سے پہلے سو جائے اور پھر طلوع فجر کے بعد اس کی آنکھ کھلے تو وہ پہلے کون سی نماز پڑھے
٤٨٠٦ - حدثنا ابن إدريس عن هشام عن واصل مولى (أبي) (١) عيينة عن رجل يقال له سعد قال: صليت في رمضان مع الناس ثم أتيت بيتا لأهلي فدخلت فيه فنمت ليلتي ويومي وليلتي حتى الغد فأتيت ابن عمر فأخبرته قال: فصنعت ماذا؟ قال: صليت الظهر قال: أحسنت (قال: ثم) (٢) ماذا؟ قال: صليت العصر قال: أحسنت. قال: ثم ماذا؟ قال: صليت المغرب. قال: (أحسنت، قال) (٣): ثم ماذا؟ قال صليت العشاء. قال: أحسنت. قال: ثم ماذا؟ قال: أوترت. قال: ما كنت تصنع ⦗٧⦘ بالوتر؟ قال: ثم ماذا؟ قال: (ثم) (٤) صليت الصبح. قال: أحسنت (٥).سعد نامی ایک آدمی بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ماہ رمضان میں میں نے لوگوں کے ساتھ نماز پڑھی۔ پھر میں اپنے گھر والوں کے پاس آگیا۔ اور رات کو سویا ، پھر اگلے دن بھی سویارہا اور پھر اگلی رات بھی سویا رہا۔ پھر میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور ان سے ساری بات عرض کی اور مسئلہ دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ پھر تم نے کیا کیا ؟ میں نے کہا کہ میں نے ظہر کی نماز پڑھی۔ انہوں نے کہا تم نے اچھا کیا، پھر کیا کیا ؟ میں نے کہا کہ میں نے عصر کی نماز پڑھی۔ انہوں نے کہا کہ اچھا کیا، پھر کیا کیا ؟ میں نے کہا میں نے مغرب کی نماز پڑھی۔ انہوں نے کہا تم نے اچھا کیا، پھر کیا کیا ؟ میں نے کہا میں نے عشاء کی نماز پڑھی۔ انہوں نے کہا تم نے اچھا کیا، پھر کیا کیا ؟ میں نے کہا پھر میں نے وتر پڑھے۔ انہوں نے کہا کہ تمہیں وتر نہیں پڑھنے چاہئے تھے۔ پھر تم نے کیا کیا ؟ میں نے کہا پھر میں نے صبح کی نماز پڑھی ۔ انہوں نے کہا کہ تم نے اچھا کیا۔