حدیث نمبر: 4702
٤٧٠٢ - حدثنا علي بن مسهر عن داود عن أبي عثمان عن مطرف بن عبد اللَّه بن الشخير قال: أتيت الشام فإذا أنا برجل يصلي ويركع ويسجد ولا يفصل فقلت: لو قعدت حتى أرشد هذا الشيخ قال: فجلست فلما قضى الصلاة قلت له: يا عبد اللَّه أعلى شفع انصرفت أم على وتر؟ قال: قد كُفيت ذلك قلت: ومن يكفيك؟ قال: الكرام (الكاتبون) (١) ما سجدت سجدة إلا رفعني اللَّه بها درجة وحط عني بها خطيئة (٢)، قلت: من أنت يا عبد اللَّه قال: أبو ذر، قلت: ثكلت مطرفا أمه يعلم أبا ذر السنة، فلما أتيت منزل كعب قيل لي: قد سأل عنك فلما لقيته ذكرت له ⦗٥١٩⦘ أمر أبي ذر وما قال لي فقال لي مثل قوله (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت مطرف بن عبدا للہ بن شخیر فرماتے ہیں کہ میں ملک شام حاضر ہوا تو میں نے دیکھا کہ ایک آدمی نماز پڑھ رہا تھا اور بغیر فصل کے رکوع و سجود کررہا تھا۔ میں نے سوچا کہ مجھے بیٹھ کر ان بزرگ کا کھوج لگانا چاہئے کہ یہ کون ہیں ؟ چناچہ میں بیٹھ گیا ۔ جب انہوں نے نماز مکمل کرلی تو میں نے کہا اے اللہ کے بندے ! آپ نے طاق رکعتیں پڑھ کر سلام پھیرا ہے یا جفت ؟ انہوں نے کہا میں اس سے بےنیاز ہوں۔ میں نے پوچھا کہ آپ کو کس نے بےنیاز کیا ہے ؟ انہوں نے کہا اعمال لکھنے والے معزز فرشتوں نے۔ کیونکہ میں نے جب بھی سجدہ کیا اللہ تعالیٰ نے میرا ایک درجہ بلند کیا اور مجھ سے ایک گناہ کو ختم کردیا۔ میں نے کہا کہ اے اللہ کے بندے ! آپ کون ہیں ؟ انہوں نے کہا میں ابو ذر ہوں۔ میں فوراً بولا مطرف کی ماں اسے کھو دے، وہ حضرت ابو ذر کو سنت سکھاتا ہے ! جب میں حضرت کعب کے مکان پر حاضر ہوا تو مجھ سے کہا گیا کہ وہ تمہارے بارے میں پوچھ رہے تھے۔ جب میں ان سے ملا تو میں نے ان سے حضرت ابو ذر کی بات کا تذکرہ کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ وہ ٹھیک کہتے ہیں۔

حواشی
(١) في [أ]: (الكاتبين).
(٢) في [أ] زيادة: (حدثنا علي).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / سجود السهو والعمل في الصلاة / حدیث: 4702
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه عبد الرزاق (٣٥٦٢) وورد نحوه مرفوعًا عند الدارمي (١٤٦١) والبزار (٣٩٠٣) وابن قانع (١/ ١٣٥) والبيهقي (٢/ ٤٨٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4702، ترقيم محمد عوامة 4664)