حدیث نمبر: 4700
٤٧٠٠ - حدثنا أبو الأحوص عن أبي إسحاق عن مخارق قال: مررت بأبي ذر بالربذة (وأنا) حاج، فدخلت عليه منزله فرأيته (يصلي) (١) (يخفف) (٢) القيام قدر ما يقرأ: ﴿إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ﴾ و ﴿إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ﴾، (ويكثر) (٣) الركوع والسجود فلما قضى صلاته قلت: يا أبا ذر رأيتك (تخفف) (٤) القيام وتكثر الركوع والسجود فقال: إني سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "مَا مِنْ عَبْدٍ يَسْجَدُ للَّهِ سَجْدَةً أَوْ يَرْكَعُ (لَهُ) (٥) رَكْعَةً إِلَّا حَطَّ اللَّهُ عَنْهُ بهَا خَطِيئَتَهُ (وَرَفَعَ) (٦) لَهُ ⦗٥١٨⦘ بِهَا (دَرَجَةً) (٧) " (٨).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت مخارق فرماتے ہیں کہ میں مقام ربذہ میں حضرت ابو ذر کے پاس سے گذرا، میں حج کے ارادے سے تھا۔ میں ان کے گھر داخل ہوا تو میں نے دیکھا کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے اور اتنا مختصر قیام فرماتے جتنی دیر میں سورة الکوثر اور سورة النصر پڑھی جاسکے۔ وہ رکوع اور سجدے کثرت سے کرتے تھے۔ جب انہوں نے اپنی نماز مکمل کرلی تو میں نے کہا اے ابو ذر ! میں نے آپ کو دیکھا آپ قیام کو مختصر کر رہے ہیں اور زیادہ رکوع و سجود کررہے ہیں، اس کی کیا وجہ ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے جب بھی کوئی بندہ اللہ کے لیے سجدہ کرتا ہے اور اس کے لئے رکوع کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ایک گناہ کو معاف کرتا ہے اور اس کا ایک درجہ بلند کردیتا ہے۔

حواشی
(١) في [ب] سقط: (يصلي).
(٢) في [أ]: (يحق)، وفي [أ، جـ، ك]: (يخف).
(٣) في [د]: (وتكثر).
(٤) في [ب]: (تخف)، وفي [جـ، ك]: (يخف).
(٥) في [ب، أ]: (إلية).
(٦) في [أ، ب]: (ويرفع).
(٧) في [هـ]: (درجته).
(٨) مجهول؛ لجهالة مخارق، أخرجه أحمد (٢١٣٠٨) والبخاري في التاريخ ٧/ ٤٣٠، والطحاوي ١/ ٤٧٦، والبيهقي ٣/ ١٠.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / سجود السهو والعمل في الصلاة / حدیث: 4700
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4700، ترقيم محمد عوامة 4662)