مصنف ابن ابي شيبه
سجود السهو والعمل في الصلاة
من كره الالتفات في الصلاة باب: جو حضرات اس بات کی رخصت دیتے ہیں کہ نماز میں نظر گھما کر دیکھنے کی اجازت ہے
حدیث نمبر: 4615
٤٦١٥ - حدثنا (وكيع) (١) قال حدثنا (٢) أبو (عبيدة) (٣) الناجي عن الحسن عن ⦗٤٩٩⦘ أبي هريرة أنه قال في مرضه: اقعدوني (أقعدوني) (٤) (٥) فإن (٦) عندي وديعة أودعنيها رسول اللَّه ﷺ قال: "لَا يَلْتَفِتُ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَإِنْ كَانَ لَا بُدَّ فَاعِلًا فَفِي غَيْرِ مَا افْتَرَضَ اللَّهَ عَلَيْهِ" (٧).مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ نے اپنے مرض الوفات میں فرمایا کہ مجھے بٹھا دو ، میرے پاس رسول اللہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک امانت ہے۔ آپ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ نماز میں ادھر ادھر متوجہ مت ہونا، اگر کسی وجہ سے تمہیں ایساکرنا ہی پڑے تو فرض نماز کے دوران ہر حال میں اس سے بچنا۔
حواشی
(١) في [ب] سقط: (وكيع).
(٢) في [جـ، ك]: (نا).
(٣) في [جـ، ك]: (عبيد)، وفي [هـ]: (عبد).
(٤) سقط: من [ب، هـ].
(٥) في [أ، ب]: زيادة (فقال).
(٦) في [ب]: (إن).