مصنف ابن ابي شيبه
سجود السهو والعمل في الصلاة
من كره الالتفات في الصلاة باب: جو حضرات اس بات کی رخصت دیتے ہیں کہ نماز میں نظر گھما کر دیکھنے کی اجازت ہے
حدیث نمبر: 4603
٤٦٠٣ - حدثنا عبد السلام بن حرب عن يزيد بن عبد الرحمن الدالاني عن عبد الملك بن ميسرة عن زيد بن وهب أن عمر بن الخطاب رأى رجلا صلى ركعتين بعد غروب الشمس وقيل الصلاة، فجعل يلتفت فضربه بالدرة حين قضى الصلاة (وقال) (١): لا تلتفت، (ولم) (٢) (يعب) (٣) الركعتين (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن وہب کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب نے ایک آدمی کو دیکھا اس نے سورج غروب ہونے کے بعد مغرب کی نماز سے پہلے دو رکعتیں ادا کیں اور ان میں ادھر ادھر متوجہ ہوتا رہا۔ جب اس نے نماز مکمل کرلی تو حضرت عمر نے اسے اپنا کوڑا مارا اور فرمایا کہ نماز میں ادھر ادھر متوجہ نہ ہوا کرو۔ آپ نے ان دو رکعتوں پرا سے کچھ نہ کہا۔
حواشی
(١) في [ب، ط، هـ]: (فقال).
(٢) في [أ، ب، جـ، ك]: (لم)، وفي [هـ]: (لا).
(٣) في [أ، ب، هـ] (تعب).