مصنف ابن ابي شيبه
سجود السهو والعمل في الصلاة
من كره الالتفات في الصلاة باب: جو حضرات اس بات کی رخصت دیتے ہیں کہ نماز میں نظر گھما کر دیکھنے کی اجازت ہے
حدیث نمبر: 4601
٤٦٠١ - حدثنا أبو بكر (قال حدثنا أبو الأحوص) (١) عن أشعث (بن) (٢) أبي الشعثاء (عن أبيه) (٣) عن مسروق عن عائشة قالت: سألت رسول اللَّه ﷺ عن الالتفات في الصلاة (فقال) (٤): "اخْتِلَاسَةٌ يَخْتَلِسُهَا الشَّيْطَانِ مِنْ صَلَاةِ (العَبْدِ) " (٥) (٦).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے نبی پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نماز میں ادھر ادھر متوجہ ہونے کے بارے میں سوال کیا تو آپ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ یہ شیطان کی طرف سے بندے کی نماز میں چوری کا ایک طریقہ ہے۔
حواشی
(١) سقط ما بين القوسين في: [أ، ب].
(٢) في [أ، ب]: (عن).
(٣) في [أ] سقط: (عن أبيه).
(٤) في [جـ]: (قال).
(٥) في [أ]: ورد (العيد).