مصنف ابن ابي شيبه
سجود السهو والعمل في الصلاة
ما قالوا فيه إذا انصرف وقد نقص من صلاته وتكلم باب: اگر امام کو نماز میں سہو ہو جائے اور وہ سجدہ سہو نہ کرے تو لوگ کیا کریں؟
٤٥٨٧ - حدثنا وكيع عن إسماعيل عن ابن الأصبهاني عن عكرمة أن النبي ﷺ صلى (١) العصر ركعتين ثم سلم ودخل فدخل عليه رجل من أصحابه يقال له ذو الشمالين فقال: يا رسول اللَّه قصرت الصلاة؟ قال: مَاذا؟ قال: صليت ركعتين فخرج فقال: "مَا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ؟ " فقالوا: يا رسول اللَّه؛ نعم، فصلى بهم ركعتين وسجد سجدتين (٢).حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ نبی پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عصر کی نماز میں دو رکعتیں پڑھادیں۔ پھر سلام پھیر کر گھر تشریف لے گئے۔ آپ کے صحابہ میں سے ذوالیدین نامی ایک صاحب آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے عرض کیا کہ یارسول اللہ ! کیا نماز میں کمی کردی گئی ہے ؟ آپ نے فرمایا کیوں کیا ہوا ! انہوں نے کہا کہ آپ نے آج دو رکعتیں پڑھائی ہیں۔ آپ باہر تشریف لائے اور لوگوں سے پوچھا ذو الیدین کیا کہہ رہے ہیں ؟ لوگوں نے کہا کہ یا رسول اللہ ! وہ ٹھیک کہتے ہیں۔ نبی پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو دو رکعتیں پڑھائیں اور سہو کے دو سجدے کئے۔