مصنف ابن ابي شيبه
سجود السهو والعمل في الصلاة
ما قالوا فيه إذا انصرف وقد نقص من صلاته وتكلم باب: اگر امام کو نماز میں سہو ہو جائے اور وہ سجدہ سہو نہ کرے تو لوگ کیا کریں؟
٤٥٨٢ - حدثنا ابن علية عن خالد عن أبي قلابة عن (أبي) (١) المهلب عن عمران بن حصين قال صلى رسول اللَّه ﷺ العصر فسلم في ثلاث ركعات ثم دخل فقام إليه رجل يقال له الخرباق فقال: يا رسول اللَّه فذكر له الذي صنع فخرج مغضبا يجر رداءه حتى انتهى إلى الناس فقال: "صَدَقَ هَذَا؟ " قالوا: نعم. قال: فصلى تلك الركعة ثم سلّم ثم سجد سجدتين ثم سلّم (٢).حضرت عمران بن حصین کہتے ہیں کہ نبی پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھائی اور تین رکعات پڑھا کر سلام پھیر دیا۔ پھر حجرۂ مبارکہ میں تشریف لے گئے۔ خرباق نامی ایک آدمی کھڑے ہوئے اور عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! آج ایسا واقعہ پیش آیا ہے۔ نبی پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غصے سے اپنی چادر مبارک گھسیٹتے ہوئے تشریف لائے اور لوگوں سے پوچھا کہ کیا یہ سچ کہتا ہے ؟ لوگوں نے کہا جی ہاں۔ اس پر نبی پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک رکعت پڑھا کر سلام پھیرا اور سہو کے دو سجدے کئے پھر سلام پھیرا۔