حدیث نمبر: 4581
٤٥٨١ - حدثنا ابن فضيل عن حصين عن عكرمة قال: صلى النبي ﷺ بالناس ثلاث ركعات ثم انصرف فقال له بعض القوم: حدث في الصلاة شيء؟ قال: "وَمَا ذَاكَ؟) قالوا: لم تصل إلا ثلاث ركعات، فقال: "أَكَذَلِكَ يَا ذَا الْيَدَيْنِ؟ " وكان يسمى (ذا) (١) الشمالين قال: نعم قال: فصلى ركعة وسجد سجدتين (٢).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عکرمہ کہتے ہیں کہ نبی پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو تین رکعات نماز پڑھا کر سلام پھیر دیا تو ایک آدمی نے کہا کہ کیا نماز کے بارے میں کوئی نیا حکم نازل ہوا ہے ؟ آپ نے فرمایا کیوں کیا ہوا ؟ لوگوں نے کہا کہ آپ نے صرف تین ہی رکعتیں پڑھائی ہیں۔ آپ نے پوچھا اے ذو الدمین ! (انہی کو ذو الشمالین بھی کہا جاتا تھا) کیا واقعی ایسا ہوا ہے ؟ انہوں نے کہا جی ہاں ۔ اس پر نبی پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک رکعت نماز پڑھائی اور پھر دو سجدے کئے۔

حواشی
(١) في [أ]: (ذي)، في [ب، جـ، ك]: (ذا)، وفي [هـ، د]: (ذو).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / سجود السهو والعمل في الصلاة / حدیث: 4581
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4581، ترقيم محمد عوامة 4546)