حدیث نمبر: 4579
٤٥٧٩ - حدثنا شبابة عن ليث عن يزيد (عن) (١) عمران بن (أبي) (٢) أنس عن أبي سلمة عن أبي هريرة أن النبي ﷺ صلى يوما فسلّم في ركعتين ثم انصرف فأدركه (ذو) (٣) الشمالين فقال: يا رسول اللَّه انقصت الصلاة أم نسيت؟ قال: "لَمْ تَنْقُصِ الصَّلَاةُ وَلَمْ أَنْسَ" (قال) (٤): بلى، والذي بعثك بالحق فقال النبي ﷺ: "أَصَدَق ذو اليْدَيْنِ؟ " قالوا: نعم يا رسول اللَّه فصلى بالناس ركعتين (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ نبی پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن نماز پڑھائی اور دو رکعتیں پڑھ کر غلطی سے سلام پھیر دیا۔ جب آپ چل پڑے تو ذوشمالین نے جاکر عرض کیا اے اللہ کے رسول ! کیا نماز کم ہوگئی ہے یا آپ بھول گئے ؟ آپ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ نہ میں نے نماز کو کم کیا ہے اور نہ میں بھولا ہوں ! ذوشمالین نے کہا کہ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے ! ایسا کچھ ہوگیا ہے۔ نبی پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں سے پوچھا کہ کیا ذو الیدین (انہی کو ذو الشمالین بھی کہا جاتا تھا) سچ کہتا ہے ؟ انہوں نے تصدیق کی تو رسول اللہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو دو رکعتیں پڑھائیں۔

حواشی
(١) في [د، هـ]: (بن).
(٢) سقط من: [أ، ب، جـ، د، ك، هـ].
(٣) في [أ]: (ذوي).
(٤) في [أ، ب]: (وقال)، وفي [جـ، ك]: (فقال).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / سجود السهو والعمل في الصلاة / حدیث: 4579
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه النسائي ٣/ ٢٣، والطحاوي ١/ ٤٤٥، وأصله عند البخاري (١٢٢٧) وأحمد (٩٤٤٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4579، ترقيم محمد عوامة 4544)