مصنف ابن ابي شيبه
سجود السهو والعمل في الصلاة
إذا سلم من ركعتين ثم ذكر أنه لم يتم باب: اگر کوئی شخص نا مکمل نماز پڑھ کر سلام پھیر دے اور کسی سے گفتگو بھی کر لے تو اس کے لئے کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 4576
٤٥٧٦ - حدثنا وكيع عن شريك عن ابن الأصبهاني قال: صلى بنا ابن أبي ليلى فسلم في الركعتين فسبحنا به فقام فأتم] (١) الصلاة فلما فرغ سجد سجدتين قال: (فذكرت) (٢) ذلك لعكرمة فقال: أحسن.مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن اصبہانی کہتے ہیں کہ ہمیں حضرت ابن ابی لیلیٰ نے نماز پڑھائی اور دو رکعتیں پڑھ کر سلام پھیر دیا۔ ہم نے تسبیح کہی تو وہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے نماز کو مکمل فرمایا۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو انہوں نے دو سجدے کئے۔ ابن اصبہانی کہتے ہیں کہ میں نے اس بات کا ذکر حضرت عکرمہ سے کیا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ بہت اچھا طریقہ ہے۔
حواشی
(١) سقط ما بين المعكوفين من: [أ، ب].
(٢) في [أ]: (وذكرت).