مصنف ابن ابي شيبه
سجود السهو والعمل في الصلاة
إذا سلم من ركعتين ثم ذكر أنه لم يتم باب: اگر کوئی شخص نا مکمل نماز پڑھ کر سلام پھیر دے اور کسی سے گفتگو بھی کر لے تو اس کے لئے کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 4573
٤٥٧٣ - حدثنا أبو بكر قال (حدثنا) (١) حفص عن أشعث عن عطاء قال: صلى ابن الزبير فسلم في ركعتين ثم قام إلى الحجر فاستلمه فسبح (به) (٢) القوم فرجع (فأتم) (٣) وسجد سجدتين قال: فذكرت ذلك لابن عباس فقال: للَّه أبوه، ما أماط عن سنة نبيه (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ حضرت ابن زبیر نے نماز پڑھائی اور دو رکعت پڑھ کر سلام پھیر دیا۔ پھر حجراسود کے پاس جا کر اس کا استلام کیا۔ لوگوں نے تسبیح کہی تو وہ واپس آگئے اور دو سجدے کئے۔ عطاء کہتے ہیں کہ میں نے اس بات کا ذکر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کیا تو انہوں نے فرمایا کہ ابن زبیر کے کیا کہنے ! وہ اپنے نبی کی سنت سے دور نہیں ہوئے۔
حواشی
(١) في [جـ، ك]: (نا).
(٢) في [أ]: (له).
(٣) في [أ، ب]: (قائمٌ).